کسی ستارے سا تابندہ ہونا چاہتا ہوں
میں روشنی کا نمائندہ ہونا چاہتا ہوں
میں اپنی ذات کے مدفن میں دفن ہوں کب کا
کسی طلسم سے پھر زندہ ہونا چاہتا ہوں
ہر ایک لمحہ ترا مجھ کو سوچتے گزرے
میں تیرے دھیان میں پائندہ ہونا چاہتا ہوں
بھلائی کیا کی کہ اُلٹا گناہ لازم ہے
میں ایسی نیکی پہ شرمندہ ہونا چاہتا ہوں
خدا کا شکر ہے واعظ کہ پارسائی میں
تری طرح ہوں نہ آئندہ ہونا چاہتا ہوں
قدم قدم پہ ملے لطف منزلوں سا امر
میں ایسی راہ کا جوئندہ ہونا چاہتا ہوں
